گورکھپور ، 30؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ نے متھرا کے جواہرباغ میں آر ایس ایس کے لوگوں کی طرف سے ٹریننگ دئے جانے کے الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے اترپردیش حکومت کو معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپنے کا چیلنج کیا ہے۔آدتیہ ناتھ متھرا کے جواہرباغ میں آر ایس ایس کے لوگوں کی طرف سے ٹریننگ دئے جانے کے الزام کے بارے میں آج یہاں نامہ نگاروں کے سوال پر کہا کہ یہ سراسر غلط ہے،آخر وہاں پر پیدا ہوا برجیش یادو کون ہے،اتر پردیش حکومت اس کیس کی تحقیقات سی بی آئی کیوں نہیں کراتی۔انہوں نے ریاست کی سماج وادی پارٹی کی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں پولیس کی اگر سیاست نہ ہوئی ہوتی تو آج وردی اتنی زیادہ بدنام نہیں ہوئی ہوتی ۔ریاست میں ڈیڑھ درجن سے زیادہ افسران اور ملازمین موت کا شکار نہ ہوئے ہوتے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کو بالواسطہ طور پر دبنگ عتیق احمد اور مختار انصاری جیسے لوگ ہی چلا رہے ہیں۔جب یہ سب ہٹ جائیں گے تو محض ملائم سنگھ یادو کا ہی خاندان پارٹی میں بچے گا۔انہوں نے ہندو مہاسبھا کے اس الزام کو بے بنیاد بتایا کہ آر ایس ایس سے منسلک مسلم راشٹریہ منچ روزا افطار پارٹی کا اہتمام مسلمانوں کی منھ بھرائی کے لئے کر رہا ہے۔